تحریر۔۔۔۔ایس ایم عبدالہدی شیرازی ۔۔۔۔۔۔۔بیچارہ سکول مالک — ایک ان دیکھا ہیرو
ہمارے معاشرے میں کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہم صرف ایک ہی زاویے سے دیکھتے ہیں، اور اسی ایک تصویر پر فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ سکول مالک بھی انہی کرداروں میں سے ایک ہے۔ ہم اسے ہمیشہ پیسے کے ترازو میں تولتے ہیں، کبھی اسے بینک کا منشی کہتے ہیں،
کبھی سی این جی پمپ کا مالک، کبھی پٹرول پمپ والا، اور کبھی کوئی اور لیبل لگا دیتے ہیں۔ محلہ داری ہو یا گلی کا ماحول، وہاں تو باتیں اور بھی تلخ ہو جاتی ہیں، اور رہی سہی کسر والدین پوری کر دیتے ہیں، جن کے بچے اسی سکول میں پڑھ رہے ہوتے ہیں۔
ہمیں بس یہی دکھائی دیتا ہے کہ وہ صاف ستھرا لباس پہنے، اچھے جوتے پہنے، شیشے کے دروازے کے پیچھے دفتر میں بیٹھا ہوا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہ بہت بڑا آدمی ہے، بہت طاقتور ہے، بہت مضبوط ہے، بہت کامیاب تاجر ہے، اور اس کی زندگی یقیناً بڑی آرام دہ ہوگی۔ ٹیچر اسے تنقیدی نظر سے دیکھتا ہے، پرنسپل اسے شک کی نظر سے دیکھتا ہے، والدین اسے شکایت کی نظر سے دیکھتے ہیں، اور معاشرہ اسے الزام کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہر ایک کی زبان پر تنقید ہوتی ہے، ہر ایک کے دل میں سوال ہوتا ہے، اور ہر ایک کے ذہن میں یہی خیال ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ آسانی سے کما رہا ہے۔
لیکن یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے، اصل تصویر کا دوسرا رخ کوئی نہیں دیکھتا۔ حقیقت یہ ہے کہ سکول مالک ایک وقت میں کئی کردار نبھاتا ہے۔ وہ کبھی چوکیدار بن کر گیٹ پر کھڑا ہوتا ہے، کبھی اکاؤنٹنٹ بن کر حساب کتاب کرتا ہے، کبھی کلرک بن کر فائلیں اٹھاتا ہے، کبھی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر خود ہی سامان لینے جاتا ہے، کبھی مزدوروں کے ساتھ اینٹ اور ریت اٹھاتا ہے، کبھی مالی بن کر پودوں کو پانی دیتا ہے، کبھی مہمانوں کے لیے خود چائے بناتا ہے، اور کبھی باورچی کی طرح سب کا خیال رکھتا ہے۔ جب کوئی نہ ہو تو وہی سب کچھ ہوتا ہے، کیونکہ ایک کردار ایسا ہے جو کبھی خالی نہیں رہ سکتا، اور وہ ہے سکول مالک کا کردار۔
انتظامی ذمہ داریاں تو ایک طرف، اگر مالی معاملات دیکھے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ آگ پر بیٹھ کر کھیل رہا ہے۔ اخراجات، تنخواہیں، بلڈنگ کا کرایہ، بجلی کے بل، مرمت، اسٹیشنری، نتائج کی ذمہ داری، بچوں کی حفاظت، والدین کی توقعات، حکومت کی شرائط، سب کچھ اسی کے سر پر ہوتا ہے۔ سکول کا نام اونچا ہو تو بھی اس کا نام، اور اگر خدانخواستہ کوئی حادثہ ہو جائے تو ایف آئی آر بھی اسی کے نام۔ بچیوں کی عزت، بچوں کا اعتماد، والدین کی تسلی، سب کچھ اسی ایک انسان کے کندھوں پر رکھا جاتا ہے۔
یہ وہ انسان ہے جو سب کے دکھ سنتا ہے، سب کے مسئلے حل کرتا ہے، سب کو مسکرا کر جواب دیتا ہے، اور خود اندر سے ٹوٹتا رہتا ہے۔ اس کے پاس سر کھجانے کا وقت بھی نہیں ہوتا، اپنی تھکن محسوس کرنے کا وقت بھی نہیں ہوتا، اپنے زخموں پر مرہم رکھنے کا وقت بھی نہیں ہوتا۔ وہ دھوپ میں بھی جلتا ہے، بارش میں بھی بھیگتا ہے، اور مسائل کی آنچ میں بھی پکتا ہے۔ وہ سکول کے بچوں کا بھی ذمہ دار ہے، بڑوں کا بھی، یہاں تک کہ سکول کے پودوں کا بھی۔
یہ سکول مالک وہ ہے جسے نہ کوئی دلاسہ دیتا ہے، نہ کوئی شاباش دیتا ہے، نہ کوئی ایوارڈ دیتا ہے۔ تقریب میں استاد کو بلایا جاتا ہے، بچے کو انعام دیا جاتا ہے، لیکن مالک کا نام کہیں نہیں ہوتا۔ حکومت کی نظر میں بھی وہ مشکوک ہے، عوام کی نظر میں بھی، اور ادارے کے اندر بھی وہ سوالیہ نشان ہے۔ مگر ذمہ داریاں بہرحال اسی کو پوری کرنی ہیں، فیصلے اسی نے کرنے ہیں، نقصان بھی اسی نے اٹھانا ہے، اور جواب بھی اسی نے دینا ہے۔
ایسے سکول مالک اصل میں چھپے ہوئے ہیروں کی طرح ہوتے ہیں، دبے ہوئے کرداروں کی طرح ہوتے ہیں، نظر نہ آنے والے محسنوں کی طرح ہوتے ہیں۔ وہ تعلیم کے میدان میں خاموشی سے قربانیاں دیتے ہیں، بغیر شور کے، بغیر دعوے کے، بغیر تعریف کے۔ وہ چمکتے نہیں، مگر جلتے رہتے ہیں۔ وہ دکھائی نہیں دیتے، مگر سب کچھ سہتے ہیں۔
آج ہم ان تمام بیچارے سکول مالکان کو سلام پیش کرتے ہیں،
ہم انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، ہم ان کے لیے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہمت دے، استقامت دے، برکت دے، اور ان کے اس خاموش سفر کو قبول فرمائے۔
اور اگر ہمیں کبھی موقع ملا تو ہم انہیں ایوارڈ بھی دیں گے، انہیں عزت بھی دیں گے،
اور انہیں وہ مقام بھی دیں گے جس کے وہ حقیقتاً حق دار ہیں۔انشاء اللہ۔
کیونکہ یہی ہیں وہ لوگ جو دکھ میں بھی مسکراتے ہیں، جو بوجھ میں بھی سنبھلتے ہیں، اور جو تعلیم کے چراغ کو اپنے ہاتھوں سے جلائے رکھتے ہیں۔
یہی ہے بیچارہ سکول مالک…
اور یہی ہے اصل سکول مالک۔
