اگر قوم یکجا ھو تو فتوحات مقدر بن جاتی ہیں۔۔۔۔
تحریر سینئر تجزیہ کار ۔۔۔
سید مخدوم حسین نقوی ۔۔۔۔۔
5 فروری یوم یکجہتی کشمیر ڈے ہر سال پاکستان میں بڑے جوش و خروش اور ولولے کے ساتھ منایا جاتا ھے اس دن ملک کی سیاسی جماعتوں کے سربرہان اپنے کارکنان اور پارٹی ورکز کے ساتھ ٬ مختلف سماجی تنظیموں کے اراکین اور گورنمنٹ اداروں کے ملازمین اپنے اپنے دفاتر کے نزدیک کی شاہرؤں پر پاکستان اور کشمیر کے چھوٹے چھوٹے پرچوں کو تھامے کشمیر سے یکجہتی کے پوسٹرز٬ بینرز اور فلیکسیز ہاتھوں میں اٹھائے چھوٹی موٹی ریلیاں اور جلوس نکالنے میں سرگرم دیکھائی دیتے ہیں پاکستان میں اس تہوار کو اسقدر اہمیت حاصل ھے کہ اس ملک خدادا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بیشتر اضلاع میں وہاں پے طعینات ڈی سی صاحباں و ڈی پی اوز چند قدم کی ریلیاں بھی ریکارڈ کروانے کو اپنے فرائض میں شامل کرتے ہیں اور ایسا کرنا بھی چاہیے کیونکہ زندہ قومیں ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دیتی ہیں پھر جو مظلوم کے لئے آواز حق نا اٹھائے اسے مردہ ہی تصور کیا جاتا ھے لیکن مظلوموں کے لئے فقط آواز اٹھانا ہی کافی تو نہیں٬٬٬٬٬ بلکہ انہیں ظالموں کے چنگل سے آزاد کروانے کے لئے اپنے وقت اپنے مال اور وہاں پے انقلاب برپا کرنے کے لئے خود کی جانوں کی بھی قربانی دینا ضروری ھو جاتی ھے کیونکہ انقلاب ہمیشہ خون مانگتا ھے ویسے انقلاب اگر کوئی فقط ریلیوں جلوسوں اور نعروں سے آسان ھونا ھوتا تو کشمیر کب کا آزاد ھو چکا ھوتا فسلطین پے مظالم و بربریت کا کٹھن دور ختم ھو چکا ھوتا یہاں پر ایک بات ضرور کہتا چلوں اگر فلسطین پر اسرائیل کی جانب سے ڈھائے جانے والے جبر و ستم پر ملک ایران کے ساتھ ہماری ایٹمی طاقت رکھنے والے پاک فوج کے سربراہان اور دیگر 54 اسلامی ممالک سے آدھے بھی ملک ایران کے ساتھ ھو لیتے بلکہ یوں کیوں نا لکھوں کہ مذہب اسلام کی طاقت بن جاتے تو آج امریکہ اسرائیل کی حمایت کرتے ھوئے ایران کو ناحق دھمکیاں نا دے رہا ھوتا یوں تو ایران کی سر زمین کے بچوں جوانوں اور بوڑھوں کے حوالے سے مختلف مکتبہ فکر کے علماء کرام اپنے خطبات میں فرما چکے اور دنیا کے مورخ لکھ بھی چکے ہیں کہ ایرانی مسلمان شہادت کو سعادت سمجھتے ہیں کاش یہ الفاظ امت مسلمہ کے ہر ملک کے تمام مسلمانوں کے لئے لکھا بولا اور پڑھا جاتا مگر شاید ایسا ممکن نہیں کیونکہ ؛؛اگر قوم یکجا ھو جائے فتوحات مقدر بن جاتی ہیں ٬٬اس حوالے سے اگر اسلام کی تاریخ پڑھی جائے تو اس میں بڑے بھیانک پہلو پڑھنے کو ملیں گے کہ اس قوم میں کیسے کیسے فاسق و فاجر ٬ منافق و بے ایمان ضمیر فروش اور غداروں کے ناموں کی ایک بہت بڑی لائن لگی ھوئی ھے بڑے افسوس سے ہر بار یہ لکھنا پڑتا کہ اس قوم میں ایسے بدبخت بدکردار بدبودار نام نہاد مسلمان بھی ھو چکے کہ جنہوں نے اپنے ہی اوپر نازل کئے گئے رسول محمد مصطفیٰ صل للہ علی وآلہ وسلم کی اہلبیت علیہم السلام سے دغا بازی کی ان سے منافقت کی انکے بارے دل میں بغض رکھا ان سے دشمنی کی ان نام نہاد مسلمانوں نے اہلبیت محمد علیہم السلام اور آل نبی اولاد علی علیہ سلام کو کبھی تلوار سے تو کہیں زہر اور کہیں قلم سے قتل کیا اسی طرح عام مسلم سلطنتوں میں بھی مختلف ادوار میں کہیں میر جعفر تو کبھی میر صادق نے غدار ھونے کی لعنت خود کے گلوں میں ڈالی پھر ایسے ہزاروں دین اسلام سے غداری کرنے والے تاریخ پڑھنے والوں سے کوئی ڈھکے چپے تو نہیں سوچنے کی بات تو یہ ھے کہ اگر امت مسلمہ میں زیادہ اسلامی ممالک کے سربراہاں خود غرض اور لالچ کو چھوڑ کر یکجا ھو جائیں تو کیا فلسطین یعنی بیت المقدس مسلمانوں کا پہلا قبلہ یہودیوں کے قبضہ سے چھوڑنے میں کامیاب نا ھو جائیں گے۔۔؟
اور کیا پھر کشمیر بھی کسی غیر مذہب کے قبضہ میں رہ سکتا ھے۔۔۔؟؟
پھر ملک پاکستان میں ریلیاں جلوس تو یکجہتی کشمیر کے لئے مدتوں سے نکالنے جا رہے ہیں مگر ایک بات سمجھ سے بالاتر ھے کہ ہم بحثیت مسلم قوم دین اسلام پر یکجا ھیں تو پھر دنیا میں بقیہ مذاہب سے زیادہ ممالک پر حکمرانیاں کرنے کے باوجود سب سے زیادہ مسلمان ہی کیوں پس رہے ہیں۔۔۔۔؟
