تحریر ماہ کامل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اک شہر ہے۔جسے میں نگاہوں بھری حسرت سے دیکھتی ہوں۔۔


 تحریر ۔۔۔۔ماہ کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                          اک شہر ہے جسے میں حسرت 

 بھری نگاہوں سے دیکھتی ہوں۔۔۔ 

جس میں جا کر لوگ آپنا دکھ بھول جاتے ہیں، آپنی دنیا کہیں دور چھوڑ  جاتے ہیں۔ وہاں جانے کے بعد آپنا آپ بھول جاتے ہیں۔ جو یاد رہتا ہے وہ" صرف اور صرف میرا اللّہ اور اسکا محبوب "۔  میں سوچتی ہوں ویسے تو رب کا قرب ہم دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن جو شہر مدینہ میں جاکر  قرب حاصل ہوتا ہے۔ جسے روح و جان سے محسوس کیا جاتا ہوگا۔ وہ کیسا سکون ہوگا؟ میرا دل لرز جاتا ہے، تڑپ جاتا ہے۔  میرے پیارے آقا صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے شہر کے لیے میری آنکھوں میں نمی بھر آتی ہے۔ اور پھر آپنے آپ پر ترس آتا ہے۔ کہ میرے پاس کوئی وسیلہ نہیں ہے۔ میں کب دیکھوں گی یا پھر ایسے ہی دنیا سے چلی جاؤں گی؟میرا دل دکھی ہوتا ہے۔ کہ  میں بہت گنہگار ہوں۔ مجھ سے تو ہرروز پتہ نہیں کتنے گناہ سرزد ہو جاتے ہیں۔ اور میں سوچتی ہوں کہ میرے نصیب کا تارا کب چمکے گا؟ پھر مجھے خیال آتا ہے۔ کہ وہ آپنے بندوں کو یوں مایوس نہیں ہونے دیتا۔ وہ ضرور نوازتا ہے۔ زرا سی آمید کی کرن میرے دل میں آبھرتی ہے۔ پھر مجھے صبر کا خیال آتا ہے۔ اور بے شک صبر کا صلہ ضرور ملتا ہے۔ یہ بات میرے دل کو تسلی دیتی ہے کہ  اللہ پاک یہ دن ضرور نوازے گا۔ اور آپنے درّ پر ضرور بلائے گا انشاءاللہ۔

مجھے ان لوگوں کی آنکھوں پر رشک آتا ہے۔ جو مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ دیکھتے ہیں۔

رب کے حضور حاضر ہوتے ہیں۔

آپنی دنیا بھول کر اس مقدس مقامات پر عبادت کرتے ہیں۔

مجھے ان خوش نصیبوں پر رشک آتا ہے۔  جو اس پیاری اور پاک جگہ پر بیٹھتے ہیں، قیام کرتے ہیں۔ اور پھر اسی شہر مدینہ منورہ کی خوشبو محسوس کر تے ہیں۔ پیاری پیاری بادِ صبا ان کی روح کو ترو تازہ کرتی ہے۔ اے رب! ایک بار  مجھے بھی دکھا دے مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کا نظارہ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔۔

Post a Comment

Previous Post Next Post