"آحتجاج اور عوام" تحریر فرزانہ جبیں۔فیصل آباد
اے مرے شہر تو سچ میں ہے کمال
ہے تیری رفعتوں کا دل میں خیال
دیس میں خیر سے ہو نام تیرا
اور جگ میں” مریدکے ؛ہو مثال۔
آج جس موضوع پر لکھنے کی جسارت کر رہی ہوں۔ وہ کسی ایک پارٹی یا جماعت کے بارے میں نہیں ہے،حکومت یا پولیس کے بارے میں نہیں ہے۔ بلکہ خالصتاعوام اور ملک کے بارے میں ہے آپنے حقوق وفرائض کے بارے میں ہے۔ اور عوام کے تحفظ کے لیے حکومت کیا کر رہی ہے۔ اس کے بارے میں ہے-
یوں تو ملک ایسے حالات سے گزر رہا ہے۔ کہ کچھ سمجھ ہی نہیں آتی۔ کہ کیا لکھیں ؟ کیا کہیں ؟کیا سوچیں؟
کس سے ظلم کا حساب مانگیں
ظالم کون ؟مظلوم کون؟
کس کے ساتھ نا آنصافی ہو رہی ہے۔ اور انصاف کی تلاش میں کدھر جائیں- قانون کا رکھوالا کون ہے۔ عوام جو ٹیکس کی شکل میں پیسہ دیتی ہے۔ اس کا معاوضہ کس صورت میں ملے گا؟ کیا کوئی پرسان حال ہے؟
ابھی ہم ان سوچوں سے باہر نہیں آتے تو ایک اور سانحہ ہو جاتا ہے۔
“مریدکے سانحہ"
یہ سب کیا ہے انتشار پسند کون ہے۔ کیا کسی مذہبی جماعت سے تعلق رکھنے والوں کی فیملیز نہیں ہوتی یا پھر پولیس والوں کی جانیں آتنی سستی ہو گئی ہیں-
کون یہ تماشہ لگا رہا ہے۔ اور اس کا حل کیا ہے؟
یہ دہشتگردی ہماری ہی قسمت میں کیوں؟
اگر آحتجاج ہوتا ہے ۔تو پر تشدد کیوں-
آگر مذاکرات ہی حل ہے۔ تو قیمتی جانیں ضائع ہونے کے بعد کیوں؟
آحتجاج کے لیے اکسانے والوں کو تحفظ کون فراہم کرتا ہے؟
اس دوران گاڑیوں کو جلانا اور عام شہریوں کو نقصان پہنچانے کا حق کون دیتا ہے۔ اور جو آحتجاج کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ شہریوں کو مرنے کے لیے چھوڑ کر خود کیوں بھاگ جاتا ہے؟
یہ کیسی تحریکیں ہیں۔ جو آپنے ہی لوگوں کو مروا کر بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو جاتی ہیں ؟ اور پولیس کی طرف سے سیدھی گولیاں کیوں چلائی جاتی ہیں؟
بس پتا چلتا ہے۔ کہ ہر صورت میں نشانہ عوام ہی ہیں-
سینکڑوں جانیں چلی گئیں۔ پاکستان کی عوام کا خون اس کے آپنوں کے ہاتھوں سے ہوا-
آج یہ سب ہوا کل کچھ اور ہو جائیگا۔ اور عوام کی قیمتی جانیں جائیں گی۔ اور چند دن خبروں کی زینت بننے کے بعد ہم کسی اور سانحہ کا انتظار کریں گے۔
خدا پاکستان پر رحم کرے-آمین۔
